وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے صوبائی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے گورنر خیبرپختونخوا کی جانب سے گزشتہ روز بلائے گئے اجلاس کو تنقید کا نشانہ بنایا اور اسے غیر آئینی قرار دیا۔ یہ ردعمل ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گورنر فیصل کریم کنڈی نے صوبے کی سکیورٹی صورتحال اور پی ٹی آئی کے لانگ مارچ سے متعلق اجلاس کی صدارت کی، جبکہ سہیل آفریدی نے اس کے بعد ہنگامی کابینہ اجلاس طلب کیا۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں منتخب صوبائی حکومت، اسمبلی اور کابینہ فعال ہیں اور وزیراعلیٰ کو ہٹانے کا آئینی طریقہ عدم اعتماد ہے۔ انہوں نے کہا کہ گورنر کی جانب سے اس نوعیت کا اجلاس منعقد کرنا قابلِ قبول نہیں اور گزشتہ اجلاس کی آئینی حیثیت پر ایڈووکیٹ جنرل سے رائے لی جائے گی۔
وزیراعلیٰ نے وفاقی حکومت کی سکیورٹی پالیسیوں پر بھی سخت اعتراضات اٹھائے۔ ان کے مطابق خیبرپختونخوا طویل عرصے سے دہشت گردی کا سامنا کر رہا ہے اور صوبائی حکومت کا مؤقف ہے کہ امن کے لیے پالیسی میں تبدیلی ضروری ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ صوبے کے اسٹیک ہولڈرز کی تجویز کردہ پالیسی پر عمل کیا جائے تو 100 دن میں امن قائم کیا جاسکتا ہے۔
سہیل آفریدی نے قبائلی اضلاع کے مالی حقوق، متاثرین کے معاوضوں، پولیس و سی ٹی ڈی کی استعداد بڑھانے اور وفاقی و صوبائی تعلقات سے متعلق بھی متعدد مطالبات اور دعوے پیش کیے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت امن و امان کے قیام کے لیے سنجیدہ ہے اور پولیس کو سیاسی یا غیر متعلقہ مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے آئی جی اور چیف سیکریٹری کو بھی ہدایت کی کہ کسی غیر آئینی یا غیر قانونی حکم پر عمل نہ کریں، جبکہ لاچی کے ایس ایچ او کے خلاف مبینہ اختیارات کے ناجائز استعمال اور شہریوں سے رقم لینے کے الزامات کی انکوائری کا مطالبہ کیا۔