وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری کے ہمراہ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پی ٹی آئی پر دہشت گردوں کی سہولت کاری اور مالی معاونت کے الزامات عائد کیے۔ عطاء تارڑ نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کالعدم ٹی ٹی پی کی “بی ٹیم” ہے اور سوال اٹھایا کہ دیگر سیاسی جماعتوں کی قیادت دہشت گردی کے خلاف قربانیاں دے چکی ہے، جبکہ پی ٹی آئی کو دہشت گردوں کی جانب سے اسی نوعیت کا نشانہ کیوں نہیں بنایا گیا۔ یہ وفاقی وزیر کا الزام ہے، جس کی آزادانہ تصدیق ان رپورٹس سے نہیں ہوتی۔
عطاء تارڑ نے خیبرپختونخوا میں نان کسٹم پیڈ گاڑیوں اور بغیر نمبر پلیٹ موٹر سائیکلوں کے استعمال پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان گاڑیوں کو قانونی دائرے میں نہ لانے سے سکیورٹی مسائل پیدا ہو رہے ہیں اور بعض گاڑیاں دہشت گرد کارروائیوں میں استعمال ہوتی ہیں۔ انہوں نے خیبرپختونخوا حکومت پر پولیس اور سکیورٹی اداروں کو مطلوبہ وسائل فراہم نہ کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔
وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں سکیورٹی فورسز کو مطلوبہ وسائل، بلٹ پروف گاڑیوں اور دیگر سہولیات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے پولیس ایکٹ میں مجوزہ ترامیم، سی ٹی ڈی کی استعداد اور صوبائی حکومت کی سکیورٹی پالیسی پر بھی سوالات اٹھائے، جبکہ وفاقی حکومت کی جانب سے خیبرپختونخوا سے 800 ارب روپے کے حساب کا مطالبہ کرنے کا بھی ذکر کیا۔
طلال چوہدری نے افغانستان سے دہشت گردی کے مبینہ روابط کا ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ڈی آئی خان حملے میں ملوث ایک دہشت گرد کا تعلق کابل سے تھا اور ان کے مطابق دہشت گردی کے واقعات میں تقریباً 70 فیصد ملوث افراد افغانستان کے رہائشی ہوتے ہیں۔ یہ اعداد و شمار اور دعوے وزیر مملکت کے بیان پر مبنی ہیں۔
دوسری جانب عطاء تارڑ نے ایمرجنسی یا گورنر راج کے حوالے سے حتمی فیصلہ قرار دینے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے پر ابھی کوئی حتمی رائے قائم کرنا قبل از وقت ہوگا۔ پریس کانفرنس میں وفاقی وزرا نے دہشت گردی کے خلاف کارروائی، خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورتحال اور وفاق و صوبے کے درمیان پالیسی اختلافات پر بھی اظہارِ خیال کیا۔