خیبرپختونخوا میں امن و امان پر اہم اجلاس، 22 سالہ پالیسی تبدیل کرنے کا مطالبہ: سہیل آفریدی

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے پشاور میں امن و امان سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام، پولیس اور فوج نے امن کے قیام کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ ان کے مطابق گزشتہ دو دہائیوں کے دوران صوبے کے 80 ہزار سے زائد افراد اپنی جانیں قربان کر چکے ہیں، جبکہ آج بھی فوجی جوان، پولیس اہلکار، بچے، خواتین، بزرگ اور عام شہری دہشت گردی کا نشانہ بن رہے ہیں۔

سہیل آفریدی نے موجودہ سکیورٹی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت نے دہشت گردی کی واپسی کے خدشات کے حوالے سے وفاق اور ریاستی اداروں کو بارہا آگاہ کیا تھا۔ انہوں نے 2022 کے بعد دوبارہ بدامنی میں اضافے کو ریاستی پالیسیوں سے جوڑا اور کہا کہ صوبے کے عوام کو ایک مخصوص پالیسی کے تجربات کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ یہ ان کا سیاسی مؤقف ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ امن کے لیے صوبائی حکومت نے ترقیاتی بجٹ میں 35 ارب روپے کی کٹوتی کرکے پولیس کو اضافی وسائل فراہم کیے، جبکہ ان کے مطابق رواں مالی سال پولیس کا بجٹ تقریباً 81 ارب سے بڑھا کر 190 ارب روپے کیا گیا ہے۔ انہوں نے پولیس کی نفری، اسپیشل برانچ اور جدید اسلحہ و آلات کی استعداد بڑھانے کا بھی ذکر کیا۔

سہیل آفریدی نے وفاقی حکومت سے انسدادِ دہشت گردی کی پالیسی میں تبدیلی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا کے تمام اسٹیک ہولڈرز، حکومت، انتظامیہ اور پولیس کو اعتماد میں لے کر نئی حکمت عملی بنائی جائے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ان کی تجویز کردہ پالیسی پر عمل کیا جائے تو 100 دن میں صوبے میں امن کے حوالے سے عملی تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔

وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ گورنر راج یا ایمرجنسی کی دھمکیوں کے باوجود وہ اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ ان کے مطابق خیبرپختونخوا کو دوبارہ دہشت گردی کی آگ میں دھکیلنے کی کوئی پالیسی قابل قبول نہیں اور امن و امان کی بہتری کے لیے پالیسی میں تبدیلی پورے پاکستان کے مفاد میں ہوگی۔

Latest stories

More from this section