ڈی آئی خان دہشتگرد حملے پر سہیل آفریدی کا سخت ردعمل، پالیسی میں تبدیلی اور پائیدار امن کا مطالبہ

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے ڈیرہ اسماعیل خان میں دہشتگردی کے حالیہ حملے کی مذمت کرتے ہوئے شہید ہونے والے شہریوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کے اہلخانہ سے اظہارِ افسوس کیا۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کی نئی لہر کے باعث مسلسل جانی نقصان ہو رہا ہے اور موجودہ پالیسیوں پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔

سہیل آفریدی نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ 22 برس کے دوران متعدد بڑے اور ہزاروں چھوٹے آپریشنز کے باوجود صوبے میں پائیدار امن قائم نہیں ہوسکا۔ ان کے مطابق خیبرپختونخوا حکومت امن کے لیے اپنے طور پر اقدامات کر رہی ہے، جبکہ پولیس کی استعداد بڑھانے کے لیے مالی وسائل بھی فراہم کیے جا رہے ہیں۔ مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں خیبرپختونخوا نے قانون و امن کے شعبے کے لیے 191 ارب روپے مختص کیے ہیں۔

وزیراعلیٰ نے وفاقی اداروں اور حکومت کی پالیسیوں پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بند کمروں میں کیے گئے فیصلوں کے اثرات پورے ملک پر پڑتے ہیں۔ انہوں نے وفاقی وزراء کے بعض بیانات کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ صوبوں کے درمیان نفرت اور تقسیم پیدا کرنے والے بیانات سے گریز کیا جانا چاہیے۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ مزید جنازے نہیں اٹھائے جا سکتے اور پائیدار امن کے لیے پالیسی میں تبدیلی ضروری ہے۔ انہوں نے صوبائی ایکشن پلان پر عملدرآمد، پولیس کو مطلوبہ وسائل کی فراہمی اور دہشتگردی کے خلاف مشترکہ حکمتِ عملی پر زور دیا۔ ساتھ ہی انہوں نے 4 اکتوبر کے احتجاج کو پرامن اور آئینی حق قرار دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کارکن پرامن رہیں گے۔

Latest stories

More from this section