وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے لکی مروت کے گنڈی چوک میں لانگ مارچ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کارکنوں کے جذبے کو سراہا اور کہا کہ پی ٹی آئی کی مذاکراتی کمیٹی اسلام آباد سیاسی درجہ حرارت کم کرنے کے لیے گئی تھی۔ ان کے مطابق بند کمروں میں کیے جانے والے فیصلے عوام پر مسلط کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں عمران خان کا وژن اور پالیسی ہی چلے گی اور صوبے میں نہ گورنر راج قبول کیا جائے گا، نہ ایمرجنسی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ موجودہ دہشت گردی کی صورتحال ریجیم چینج کے بعد پیدا ہوئی، جبکہ ان کے بقول عمران خان کے دور میں امن تھا۔ انہوں نے وفاقی حکومت کو امن کے لیے ایک پالیسی بھی پیش کرنے کا ذکر کیا اور کہا کہ اس پر عملدرآمد سے 100 دن میں امن قائم ہوسکتا ہے۔
لانگ مارچ کے شرکاء سے خطاب میں وزیراعلیٰ نے عوام اور نوجوانوں سے حقیقی آزادی کی تحریک میں شامل ہونے کی اپیل بھی کی۔ انہوں نے پیش گوئی کی کہ کرک میں بڑا عوامی اجتماع ہوگا اور صوابی پہنچنے تک قافلے میں لاکھوں افراد شامل ہوں گے۔ سہیل آفریدی نے کہا کہ عمران خان اور ان کی اہلیہ کی رہائی کے لیے عوام کو باہر نکل کر اپنی حمایت کا اظہار کرنا چاہیے