وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے نئی ہائبرڈ بسوں، پنک بس سروس اور چمکنی ڈپو کی سولرائزیشن و مال آف حیات آباد ڈپو کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کی خواتین کے لیے پنک بس سروس کا وعدہ پورا کردیا گیا ہے۔ ان کے مطابق پنک بسوں میں سفر کرنے والی خواتین کے لیے کرایہ 25 فیصد کم ہوگا، جبکہ خواتین ڈرائیورز دوسری خواتین کے لیے رول ماڈل ہیں۔
سہیل آفریدی نے خیبرپختونخوا کے عوام اور خواتین کے حوالے سے اپنے مؤقف کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صوبہ خواتین کو بااختیار بنانے پر یقین رکھتا ہے۔ انہوں نے دہشت گردی سے متعلق تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا کے معاشرے میں خواتین اور بزرگوں کا احترام، بچوں سے شفقت اور حب الوطنی موجود ہے۔
سیاسی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ 4 اکتوبر کا لانگ مارچ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا لانگ مارچ ہوگا اور کسی دھمکی یا خوف سے وہ اپنے مقصد سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا مقصد حقیقی آزادی ہے، کرسی نہیں، جبکہ خیبرپختونخوا حکومت کی ہر پالیسی عوام کی فلاح کے لیے ہوگی۔
سہیل آفریدی نے وفاقی حکومت کے اخراجات پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ تین روزہ ای سی او کانفرنس کے لیے 6 ارب روپے کی بلٹ پروف گاڑیاں خریدی گئیں، جبکہ ان کے مطابق گاڑیاں کرائے پر بھی حاصل کی جا سکتی تھیں۔ انہوں نے خیبرپختونخوا کے لیے بند کمروں میں فیصلے کرنے اور صوبے کو تجربہ گاہ بنانے کے تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کے عوام کی مرضی اور عوامی مینڈیٹ کے خلاف کوئی اقدام قابل قبول نہیں۔
وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام اس وقت مشکلات اور سکیورٹی مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، اس لیے ایسی پالیسی جو عوام کو مزید تکلیف دے اسے تبدیل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے مقصد اور مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔