وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے ڈیرہ اسماعیل خان میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پولیس اہلکار، فوجی جوان اور عام شہری مسلسل اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں۔ انہوں نے گزشتہ روز پیش آنے والے افسوسناک واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے شہداء کے اہلِ خانہ سے اظہارِ ہمدردی کیا اور کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام کو اپنے شہداء کے جنازے اٹھانے پڑ رہے ہیں۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ دہشت گردی کی واپسی کے خدشات کے حوالے سے خیبرپختونخوا حکومت پہلے ہی آواز اٹھاتی رہی ہے۔ ان کے مطابق کسی بھی صوبے، فرقے یا وردی سے تعلق رکھنے والا پولیس اہلکار، فوجی جوان یا عام شہری دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شہید ہو تو وہ سب کے اپنے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کو ایک بار پھر دہشت گردی کی طرف دھکیلنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور نفرتیں پھیلانے والی زبان پاکستان کو تقسیم کرنے کا باعث بن رہی ہے۔
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ امن و امان کے لیے ترقیاتی بجٹ میں کٹ لگا کر 35 ارب روپے مختص کیے گئے، جبکہ ان کے مطابق مالی سال 2026-27 میں پولیس کے لیے 191.4 ارب روپے رکھے گئے ہیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 103 فیصد زیادہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب تک امن قائم نہیں ہوگا، ترقی اور خوشحالی ممکن نہیں۔
سہیل آفریدی نے وفاقی اداروں سے خیبرپختونخوا کو اے پی سیز اور دیگر مطلوبہ آلات کی فراہمی تیز کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ 22 برس کے دوران 22 بڑے آپریشنز اور 14 ہزار انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز کے باوجود دہشت گردی کا مسئلہ ختم نہیں ہوسکا، اس لیے خیبرپختونخوا حکومت اور عوام کو اعتماد میں لے کر پالیسی بنانا ضروری ہے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے دعویٰ کیا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ان کی پالیسی پر عمل کیا جائے تو 100 دن میں عملی تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا حکومت دہشت گردی کے خاتمے اور پائیدار امن کے لیے سنجیدہ ہے۔